آصف اقبال شاہ

وادی کشمیر میں گُزشتہ کئ سال سے بے لگام صحافت کا دامن وسیع ہوتا جارہا ہے۔ہر نئے دن کے ساتھ ہر ایرا گھیرا نتھو کھیرا ہاتھ میں مائیک لے کر صحافتی اقدار کو پاوں تلے روندکر اپنے آپ کو ایک مہان صحافی تصور کرتا ہے۔ گلی گلی، نُکڑ نکڑ، بستی بستی اور شہر شہر میں آجکل نام نہاد صحافیوں کی فوج تیار ہوچکی ہے۔ صحافتی اقدار سے نابلد اِن لوگوں کو نےلفظ “صحافت” کو نیم بسمل کردیا ہے۔ کیمرہ کی آنکھ ماتم کناں ہے آخر صحافت کو کیوں اتنا رسوا کیا جارہا ہے۔
صحافی کا لیبل چسپاں کرکے عوامی حلقوں میں دباو ڈالنا کوئ صحافت نہیں بلکہ ایک پروفیشنل ڈکیٹی ہے۔ ایسے لوگ ہر سرکاری و غیر سرکاری دفتر میں اپنی ٹانگ اڑاکر اپنی دوکانیں چلاتے ہیں۔ اس بے لگام صحافت میں ہر روز لوگوں کی عزّتیں نیلام ہوتی جارہی ہیں، گھریلو مسائل کیمرہ کی آنکھ میں بند ہوکر منظر عام پر آجاتے ہیں اور ذاتی اور اجتماعی واقعات توڈ مروڈ کر پیش کئے جاتے ہیں۔ سماج سے وابستہ ہر کوئ شخص اس بے لگام صحافت سے تنگ آچکا ہے جسمیں کسی بھی شخص کی عزت لمحوں میں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
صغار و کبار،مرد وزن پیرو جواں کی عزّتیں نیلام ہوتی جارہی ہیں۔ غم و الم میں نڈھال خواتین کی تصویریں کیمرے میں قید کرکے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنا کون سی صحافت ہے؟شیر خوار بچّوں کی چیختی چلاّتی آہوں اور سسکیوں کو منظرِ عام پر لانے کا کیا مقصد ہے۔اس بے لگام صحافت سے استاد ،ڈاکٹر،امام،مولوی، مرد اور عورت کی عزّت خطرے میں پڑ چکی ہے۔سوشل میڈیا کے اس دور میں جھوٹی خبریں جنگل کی آگ کی طرح پھیلائ جاتی ہیں۔گُزشتہ دو روز قبل شوپیاں سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری اُستاد کے بارے میں ایک ویڈیو وائرل ہوا ۔اُستاد نے کسی بچّے کو کاپی انگریزی کاپی پر چند الفاظ لکھ دئے تھے جو کہ صحیح انداز میں نہیں۔لکھے گئے تھے لیکن جس طریقے سے نام نہاد صحافیوں نے اسکی تشہیر کی وہ کسی بھی طرح صحافت اصولوں کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے۔چیختے چلاتے انداز میں سرکاری سکولوں کے خلاف بولا گیا اور مذکورہ اُستاد کی عزت پر حملہ کیا گیا۔
لمحوں میں لاکھوں لوگوں نے اس ویڈیو کو دیکھا مگر افسوس کچھ ہی گھنٹوں کے بعد کہانی کو رُخ ہی بدل ڈالا گیا۔اُستاد قوم کا معمار ہوتا ہے اور قوموں کی تقدیریں محنتی اور قابل اساتذہ کے ہاتھوں سے بن جاتی ہے لیکن سوشل میڈیا اور بے لگام صحافت نے اُستاد کی عزت کو نیلام کیا۔تعلیمی نظام پر کثافت والی صحافت سے اتنا بُرا اثر پڑچکا ہے کہ اُستاد سکول میں اپنے آپ کو بے وقعت اور غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔
اسی طرح کپوارہ کے ایک ہائر اسکینڈری میں ایک طالبہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپلوڈ کیا اور اُسمیں سکول انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ اُنہیں سکول میں حجاب پہننے پر کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور کچھ ہی لمحوں ایک بھوال سے مچ گیا۔راتوں رات پوری انتظامیہ حرکت میں اور چیف ایجوکیشن آفیسر کو از خود سکول میں جانا پڑا اور اس دوران نام نہاد صحافیوں نے اس کو اتنی تشہیر دی کی اُستاد بے بس ہوئے اور اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لئے ہاتھ پاوں مارنے لگے مگر سوشل میڈیا اور بے لگام صحافت نے انہیں مجبور بنادیا اور بچّوں کی آزادی حاصل ہوئ کہ وہ جب چاہیں،جیسے چاہیں اور جو چاہیں کیونکہ سوشل میڈیا اور بے لگام صحافت حقیقت پسندی سے بعید خبروں کو پھیلانے میں مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔
آخر اس سیلاب کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔قوم کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ان نام نہاد صحافیوں اہمیت نہ دیں اور نہ ہی انہیں خاطر میں لاکر صحافی نے سمجھیں ۔
































