اصف اقبال
گزشتہ کئ روز سے جموں و کشمیر میں ایک بار پھر خون میں غلطاں تین لاشیں سپرد خاک کی گئیں اور تین گھرانوں کے کماو اس دُنیا سے چلے گئے اور اپنےافرادِ خانہ کے لئے غموں کے پہاڈ چھوڈ کر ہمیشہ کے لئے چلے گئے۔ یکے بعد دیگر تین انسانی جانیں ضائع ہوئں جن میں شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک سابقہ فوجی ،سوپور سے وسیم احمد ایک ٹرک ڈرائیور اور کھٹوہ میں زیرِ حراست مکھن الدین قابلِ ذکر ہیں۔ جموں و کشمیر کے تین علاقوں میں ہرسُو حُزن ملال اور غم و ستم کی صدائیں فضاِ بسیط میں گشت کر رہی ہیں۔
اِن حالات میں جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ نے xپر چند جملے لکھ کر روایتی طور ان حادثات کو انکوائری کرانے کا اعلان کیا اور کئ سارے لیڈران نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معصوم جانوں کے زیاں پر مذمت بھی کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جن خانوادوں پر یہ قیامت ٹوٹ پڑی اُنہیں اس وقت حوصلہ اور ہمت اور اُنکے غم میں شریک ہونے کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے جب پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور اُنکی بیٹی نے مذکورہ دوسوگوار خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرنے کی کوشش کی تو اُنہیں اجازت نہیں دی گئ بلکہ خانہ نظر بند رکھا گیا جس سے عوام اور سیاسی لیڈران میں ایک خلیج پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوئ اور سوگوار خاندان اپنی داد و فریاد اپنے سیاسی لیڈران کو نہیں سُنا سکے اور اندر ہی اندر یاس و قنوطیت کے عالم میں آہ و فغان کر رہے ہیں۔ آخر اگر سیاسی لیڈران بھی عوامی مسائل کو دلھ درد کو نہ سنیں تو اور کون ہوگا جو عوامی مسائل کو جان سکیں۔
وقت کی ضرورت ہے کہ سیاسی لیڈران کو اسپیس دی جاِے تاکہ وہ عوام کے قریب ہوکر انکی دادو فریاد کو سُن سکیں۔ عام لوگوں نے حالیہ الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر جمہوریت کا ڈھنکا بجایا اور یہ آس لگاِے بیٹھے کہ جمہویت کے بڑے ملک میں سیاسی لیڈران انکے زخموں کا مداوا کرسکیں ۔
سرکار کو چاہِئے کہ ان تینوں واقعات کی تحقیقات شروع کی جائے اور قصور واروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات پیش نہ آئیں اور سیاسی لیڈران کو آزادی حاصل ہو وہ لوگوں کے پاس جاِیں خصوصاً اس وقت جب غم و اکراہ حالات سے دوچار ہوں اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب عام لوگوں اور سیاسی لیڈروں کے درمیان ایک بڑا خلیج پیدا ہوگا جسکو پاٹنا پھر کافی مشکل ہوگا۔
آصف اقبال ایک کالم نگار ہیں اور اس وقت “دی اسپاٹ لائٹ” میں اردو کالم لکھ رہے ہیں۔ آصف اقبال سیاسی، سماجی اور مذہبی موضوعات پر قلم اٹھاتےہیں۔
































