آصف اقبال شاہ
آٹھویں شمارے میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے”پریکشا پر چرچا” عنوان کے تحت بچوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ موجودہ دور میں ناکامیو سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ سائینس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بچوں کو ٹیکنالوجی کا مدبرانہ اور مناسب استعمال کرنے کی صلح دی۔
لفظ “پریکشا کے معنی آتے ہیں امتحان اور آزمائش کے اس سلسلے میں گُزشتہ کئ سال سے مسلسل ملک کے وزیر اعظم امتحان کے موقع پر ملک کی نوخیز نسل کو سبق آموز اور بیش قیمت باتیں بتا کر اُنہیں حوصلہ افزائ کرتے ہیں۔ آجکی چرچا میں انہوں نے کہا کہ” بچوں کی زندگی کی گاڈی کسی امتحان میں ناکام ہونے سے نہیں رُکنی چاہیے بلکہ نشیب و فراز سے نبرد آزماء ہو کر ہردم جہدِ مسلسل میں رہتے ہوئے منزل کے حصول کے لئے کوشش میں رہنا اصل زندگی ہے۔ ایک بچّے کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اُسے کتابوں سے سرخروئ چاہئے یا حیاتِ مستعار سے۔ نوخیز نسل کو اپنی ناکامیوں پر نوحہ کرنے کے بجائے اساتذہ کی فرماں برداری کا گُر سیکھنا چاہئے۔ عصرِ حاضر کے بچّے خوش نصیب ہیں جو اس ٹیکنالوجی کے انقلاب میں پیدا ہوِئے اور وقت کا تقاضا ہے کہ بچّے ان سہولیات کا مناسب استعمال کرنے کا فن سیکھیں۔
مودی نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ بچّوں کی ہمہ گیراور ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر ہو ، اور کتابی کیڑے بننے کے علی الرّغم کتابی دُنیا کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں بھی حصہ لینے کی کوشش ہونی چاہئے۔ بچے روپوٹس نہیں ہے بلکہ انکی شخصیت کو نکھارنے کی ضرورت ہے اور یہ کام اُنہیں کتابی دُنیا میں قید رکھنے سے انجام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ بچّوں کو آزادی حاصل ہو کہ وہ اپنی من پسند اور دلچسپ میدانوں میں اپنی ذہانت کا ڈھنکا بجائں۔ امتحان کو زندگی کی آخری مننزل سمجھنا کوئ دانشمندی نہیں ہے بلکہ امتحان کا دباو لئئے بغیر اپنی استطاعت کے مطابق مطالعہ کرنا چاہئے اور ساتھ میں تحریر یا لکھائ کی طرف خاص توجہ دینا چاہئے۔ اُنہوں نے اس بات پر ذور دیا کہ بچّوں کو نئ چیز یں explore کرنے کے لئے ایک خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے۔ بچّوں کو محدود دائرئے میں مقّید نہ کیا جائے بلکہ انہیں آزادی حاصل ہو کہ وہ از خود نِئ چیزوں کو اپنی اختراعیت سے explore کرسکیں۔ علم اور امتحان دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ وزیرِ اعظم نے تنظیم وقت پر لب کشائ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حال پر توجہ مرکوز کریں اور بچّوں یہ احساس جاگزیں ہوجائے کہ وہ سوچیں کہ کسطرح وہ بہتر انداز میں اپنے وقت کا استعمال کرسکیں۔ بچّوں میں صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہو کہ وہ اپنے خیالات اور احساسات دوسروے لوگوں کے ساتھ Share کرسکیں۔ انہوں نے بچّوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “آپکو اپنے افرادِ خانہ سے اپنی راے کا آزادانہ اظہار کرنا چاہئے کیونکہ ایک فیملی دراصل اپنے آپ میں ایک علمی دانشگاہ یا یونیورسٹی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے بچّوں سے تاکید کی کہ وہ لکھنے کی عادت بنائں اور اپنے دوستوں کے بہتر عادات ضبطِ تحریر میں لائں۔
مودی جی منفرد انداز میں تنظیم وقت کے بارے میں بچّوں سے بات کی اور کہا کہ”ہر کسی کے پاس 24گھنے کا وقت روزانہ میسر ہوتا ہے اور اس وقت کو ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نظامُ الاوقات ترتیب دیا جانا چاہئے تاکہ وقت کا بہتر استعمال ہوسکے۔ مغربی بنگال کے بچوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ والدین سماجی دباو کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے بچّوں سے بہت ساری اُمیدیں رکھتے ہیں لیکن والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دوسروں کے لئے مشعلِ راہ نہ بنائں بلکہ اپنے بچّوں کو انفرادیت اور خصوصیت کو ذہن میں رکھتے اُنکو نکھارنے کے لئے کام کرنا چاہئے اُسے والدین اور بچّوں کے زہنوں سے دباو کم ہوگا۔ انہوں نے ذہنی دباو کو کم کرنے کے لئے لمبی سانسیں لینے کا نسخہ بھی بچّوں کو عنایت کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ بچٰوں کو جس میدان میں دلچسپی ہو اُنہیں خوشگوار ماحول میں حوصلہ اور ہمت ملنی چاہئے اور تقابل سے اُنکی عزت نفس کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے اور وہ اپنی خدا داد صلاحیتییوں کو پروان نہیں چڑھا سکتا۔مودی جی نے قیادت کے موضوع پر بولتے ہوئے شخصیت کی تعمیر اور ترقی پر ذور دیا اور ایک حقیقی قائد بننے کے لئے ضروری ہے کہ جوکچھ وہ بولے وہ عملی میدان میں کرکے دکھائے اور لوگوں کے مسائل سمجھے۔
عزت کو مانگا نہیں جاسکتا ہے بلکہ اپنی زندگی کو بدلنا پڑتا ہے ۔لوگ صرف لفظوں پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں بلکہ عملی زندگی کو دیکھتے ہیں۔ چنانچہ پریکشا پر چرچا” عنوان کے تحت یہ پروگرام 2018 سے تسلسل کے ساتھ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور میزبانی میں منعقد ہوتا ہے جسمیں بچّے، اساتذہ اور والدین کو امتحان سے کسء قسم کا دباو نہ لینے کی صلح لیتے ہیں۔ یہ پروگرام محکمہ تعلیم اور خواندگی، وزارتِ تعلیم منعقد کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تین شمارے دہلی کے ٹاون ہال میں میں منعقد ہوئے اور کوئڈ کے دوران پریکشا پر چرچا آن لاینطرز پر دور درشن اور دیگر اہم میڈیا چینلز کے ذریعے نشر کیا گیا۔ پانچواں، چھٹا اور ساتواں شمارہ بالترتیب ٹاون ہال دہلی میں منعقد کئے گئے۔
































